ڈیزی الامیر 1935 میں اسکندریہ، مصر میں پیدا ہوئیں ۔ان کے والد کا تعلق عراق اور والدہ کا تعلق لبنان سے تھا۔ڈیزی چند ہفتوں کی تھیں کہ ان کے خاندان نے واپس اپنے آبائی علاقےعراق کا رخ کیا۔ بغداد کے ٹیچرز ٹریننگ کالج سے بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد، کیمبرج یونیورسٹی سے عربی ادب پہ تحقیق کیان کے والد نے اخراجات برداشت کرنے سے معذرت کی تو انہوں نے بیروت میں رکنے کا فیصلہ کیا جہاں انہیں عراقی سفارت خانے میں سیکرٹری کی نوکری مل گئی۔ 1975 میں جب لبنان میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو وہ عراقی ثقافتی مرکز کی ڈائریکٹر مقرر ہوئیں۔ لبنان پر اسرائیلی حملے کے بعد وہ 1982 میں عراق واپس آگئیں۔ ان کی کہانیاں مشرق وسطیٰ میں ہنگامہ خیز اوقات بشمول لبنان کی خانہ جنگی اور عراق میں صدام حسین کے اقتدار میں آنے کے دوران خواتین کے تجربات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کی پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں: البلاد البید علاء الذی توحیبوہو (دور دراز ملک جس سے آپ محبت کرتے ہیں)، 1964، تھما تودہ الموجہ (پھر لہر کی واپسی)، 1969، فی دعوتات الحب و الکراحیہ (عشق اور نفرت کے بھنور میں)، 1979 اور وضو لِ بے (فروخت کے وعدے، 1981) لبنانی خانہ جنگی کے بارے میں، اور الا لایحات الانتظار، (انتظار) ایک عراقی عورت کی اجنبیت کی کہانیاں، 1994۔